یومِ آزادی

Independence Day

یومِ آزادی
عبدالعزیز
15اگست 1947ء کو ہندستان کو برطانوی جبر و ظلم سے آزادی ملی۔ برطانیہ کے انگریز باشندے سات سمندر پار رہتے تھے مگر ہندستان کے عوام و خواص پر حکمرانی کرتے تھے۔ آزادی کی جنگ 1857ء سے بہت پہلے شروع ہوئی۔ مغل بادشاہوں کا زوال ملک کی غلامی کا سبب بنا۔ سلطنت مغلیہ کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے انگریزوں کی بالا دستی کے خلاف جدوجہد کی۔ اس وقت کے دیگر راجہ مہاراجہ نے بہادر شاہ ظفر کا ساتھ دیا۔ اس طرح آزادی کی جنگ کانگریس پارٹی کی آزادی کی جدوجہد سے بہت پہلے سے شروع ہوچکی تھی مگر کانگریس پارٹی جس کی تشکیل ہیوم نامی ایک انگریز نے 1885ء میں وائس رائے لارڈ ڈیفیرین کے صلاح و مشورے سے کیا تھا۔ اس پارٹی کے شروع میں معمولی مقصد تھا کہ ہندستانی باشندوں کی شکایات اور پریشانیوں کو یہ پارٹی وائس رائے یا برطانوی حکومت تک پہنچانے کا کام انجام کرے گی تاکہ برطانیہ کی حکومت کو ہندستان میں مضبوطی اور استحکام حاصل ہو اور ہندستانیوں کی بھی تھوڑی بہت شکایتوں اور پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند سالوں کے اندر برطانیہ اور دیگر ممالک سے پڑھ لکھ کر ہندستانی اس پارٹی میں شامل ہوئے۔ ان کے اندر ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور جب موہن داس کرم چند گاندھی جنوبی افریقہ سے ہندستان واپس آئے تو کانگریس پارٹی میں جان آگئی۔ اس میں شامل ہوئے بغیر کانگریس کی جنگ آزادی کا ساتھ دینا شروع کیا اور آہستہ آہستہ گاندھی جی آزادی کی لڑائی کے سپہ سالار ہو گئے۔ جنگ آزادی میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بالآخر 15 اگست 1947ء کو ملک ہندستان کو آزاد کرنے کیلئے مجبوراً برطانوی پارلیمنٹ نے قرار داد پاس کردی۔ اس طرح ہندستان کیلئے 15 اگست کا دن بڑا اہم ہے۔ ہر سال یوم آزادی کے نام پر دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں آزادی کا جشن بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اس روز قومی چھٹی (National Holiday) ہوتی ہے۔ جو بھی وزیر اعظم ہوتا ہے وہ قوم کا پرچم لال قلعہ پر لہراتا ہے اور ملک کے عوام کو خطاب کرتا ہے۔
آزادی کو 70سال گزر گئے مگر حقیقی آزادی ملک کے سارے باشندوں کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ شروع ہی سے سرمایہ داری کا نظام ہے جس نظام کی خصوصیت ہے کہ امیر امیر ہوتا چلا جاتا ہے اور غریب غریب ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھکمری، غربت و افلاس ابھی تک ملک کی 80فیصد آبادی میں پائی جاتی ہے۔ سرمایہ داری کے نظام میں لوٹ کھسوٹ، بدعنوانی نیچے سے اوپر تک ہوتی ہے۔ سرمایہ دار اپنی دولت کے بل بوتے پر حکومت سے قریب ہوتے ہیں اور معاشی پالیسی اپنی مرضی کے مطابق طے کرانے میں ہر سال بجٹ کے موقع پر کامیاب ہوجاتے ہیں۔ غریب اور مفلس ان کا منہ دیکھتا رہ جاتاہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو ملک کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ وہ سوشلسٹ (سماج وادی) نظریہ کے حامی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا جھکاؤ سوشلسٹ ملکوں خاص طور سے روس کی طرف تھا۔ ان کی بیٹی اندرا گاندھی بھی باپ کے نقش قدم پر چلنا چاہتی تھیں مگر پارٹی میں سرمایہ داروں کا جیسے جیسے اثر ہوتا گیا، سرمایہ داری کا نظام مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے نرسمہا راؤ نے ملک کو آزاد معیشت کی طرف آسانی سے اپنی حکومت کے زمانے میں دھکیل دیا۔ اس طرح سرمایہ داری کا نظام ہندستان میں پہلے سے بھی زیادہ مستحکم اور مضبوط ہوگیا۔ نرسمہا راؤ نے ہی بابری مسجد کی عمارت کو سنگھ پریوار کے ہاتھوں منہدم کرنے میں مدد دی۔ اس طرح راؤ نے سرمایہ پرستی اور فرقہ پرستی دونوں کو جلا بخشا۔
مسٹر راؤ کے بعد اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم ہوئے۔ انھوں نے راؤ کی معاشی پالیسی کو جاری رکھا اور فرقہ پرستی کی جڑوں کو مضبوط کیا۔ پھر دس سال تک کانگریس کو حکومت کرنے کا موقع ملا اور من موہن سنگھ دس سال تک حکومت کرتے رہے۔ چونکہ وہ خود آزاد معیشت کے قائل تھے بلکہ آزاد معیشت کو بڑھاوا دینے میں نرسمہا راؤ کے دست و بازو ہی نہیں تھے بلکہ موجد اور معمار (Architect) تھے۔ ان کی دس سالہ حکومت میں بدعنوانی کچھ اس طرح بڑھ گئی کہ کانگریس پورے ملک میں بدنام ہوگئی۔ آخر کار کرپٹ اور بدعنوان کانگریس کا کچھ ایسا زوال ہوا کہ فرقہ پرستی کی عظیم الشان فتح ہوگئی۔ نریندر مودی نے جن کی پرورش و پرداخت آر ایس ایس کی گود میں ہوئی تھی جو حقیقت میں برہمن واد اور سرمایہ داروں کی پارٹی کہلاتی ہے اپنے وجود سے نہ صرف سرمایہ داری کی جڑوں کو مضبوط کرنا شروع کر دیا بلکہ فرقہ پرستی کو اس قدر ہوا دینے کا نہایت مضبوطی کے ساتھ آغاز کیا کہ آج ملک میں فرقہ پرستی، سرمایہ داری، اندھی عقیدت اور عدم برداشت کا دور دورہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹیاں اور اس کی طلبہ تنظیمیں اگر چہ پہلے سے ہندستان کی آزادی کو اس وقت تک بے معنی سمجھتی تھیں جب تک کہ ملک میں معاشی آزادی نہ ہوجائے مگر نریندر مودی کی سرکار میں کمیونسٹوں کا گھٹن پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا، چنانچہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا و طالبات میں زبردست بے چینی پھیلی اور وہ ایک نئے قسم کی آزادی کا نعرہ لگانے لگے۔ ان کا نعرہ در اصل ملک کی آزادی نہیں بلکہ ملک میں رہ کر غربت و افلاس سے آزادی، سرمایہ داری آزادی، ذات پات سے آزادی، غنڈہ گردی و بدمعاشی سے آزادی، لاقانونیت، جبر و ظلم سے آزادی کی بات تھی مگر جے این یو میں ایک سال پہلے ایک تقریب میں چند شرارت پسندوں نے کشمیری طرز کی آزادی کا نعرہ ایسا بلند کیا کہ سنگھ پریوار کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی اور بی جے پی کو کمیونسٹ طالب علموں کو بدنام کرنے کا موقع مل گیا۔ کمیونسٹ طلبہ کے سب سے بڑے اور مشہور لیڈر کو غلط الزام دے کر دہلی پولس نے مرکز کے اشارے پر گرفتار کرکے جیل کی کوٹھری میں بند کردیا۔ کنہیا کمار کو پہلے سے بھی کہیں زیادہ شہرت حاصل ہوگئی اور ملک میں جگہ بہ جگہ طلبا و طالبات افلاس، غربت، فرقہ پرستی، بدعنوانی، جبر و ظلم سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے لگے۔ کنہیا کمار فی الحال آزادی کی علامت بن گئے ہیں جو کمیونسٹ نہیں تھے وہ بھی اس نعرہ سے متاثر ہوگئے۔ کنہیا کمار نے ایک کتاب لکھ کر شائع کی ہے جس کا نام ہے ’’بہار سے تہار تک‘‘ یہ کتاب بھی قاری کو بیحد متاثر کرتی ہے۔
اس ملک کی صورت حال 1947ء سے بدتر ہوگئی ہے کیونکہ سنگھ پریوار والے ایک مخصوص کلچر، مخصوص نظریہ کو پورے ہندستان پر لادنا چاہتے ہیں۔انگریزوں کا بھی یہی حال تھا۔ وہ نہ ہندستانیوں کو جسمانی طور پر اپنا غلام بنانا چاہتے تھے بلکہ ذہنی طور پر بھی غلام بنانے کی کوشش کرتے تھے۔
اس وقت دیکھا جائے تو واقعی ملک ہندستان کے باشندے جس شب گزیدہ سحر کی تمنا کر رہے تھے وہ سحر یہ نہ تھی۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کے اندر بے چینی و اضطراب کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اگر کوئی کنہیا کمار جیسے لوگوں کے نظریہ کو غلط اور باطل کہہ رہا ہے تو اسے گاندھی جی کے نظریۂ آزادی کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے جو کنہیا کمار کے نظریۂ آزادی سے مختلف نہیں ہے۔ سابق صدر جمہوریہ رادھا کرشنن نے گاندھی کے نظریۂ آزادی کو اپنی کتاب “Our Heritage” (ہماری وراثت) میں لکھتے ہیں کہ :
“Gandhi considered untouchability to be a curse qnd hated communal squabbles. All men are equal before God. If anyone looks down on a human being because he belongs to another faith, he commits a son before God and man. Gandhi’s movement contributed to the emancipation of women. National Integration and world solidarity had been his steady objectives. If we are true followers of Gandhi, we should work for social and national integration, emancipation of women, absolute social equality, complete abolition of untouchability and caste discrimination, removal of economic disparities.”
گاندھی جی اچھوت رسم و رواج کو ایک عذاب سمجھتے تھے اور فرقہ وارانہ فسادات سے سخت نفرت کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ سارے انسان خدا کے سامنے برابر ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی شخص کو اپنے سے کمتر سمجھتا ہے تو محض اس لئے کہ وہ دوسرے عقیدہ اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے تو وہ خدا اور انسان دونوں کے سامنے گنہگار اور مجرم ہے۔ گاندھی جی نے عورتوں کو سماجی بندھنوں سے آزاد کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ قومی اتحاد اور عالمی اتحاد کے بھی وہ بہت بڑے علمبردار تھے۔اگر ہم گاندھی جی جی کے صحیح اور سچے پیروکار ہیں تو ہمیں سماجی اور قومی اتحاد، آزادیِ نسواں،مکمل سماجی و اجتماعی عدل و انصاف، چھوت چھات اور ذات پات اور ہر قسم کے امتیازات اور معاشی نابرابری کے خاتمہ کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
گاندھی جی سچائی اور محبت کا پرچار کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دنیا کے لوگ اگر حق و صداقت کو مخلصانہ طور پر اپناتے ہیں تو عالمی اتحاد اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے اور یہ جو جبر و ظلم کا اندھیرا چھایا ہوا ہے یہ چھنٹ سکتا ہے۔ ایک نوجوان اگر سچ بات کہتا ہے تو اس سے بھی منہ نہیں موڑنا چاہئے اور اگر گاندھی جی جیسا عظیم انسان بھی یہی بات کہہ چکا ہے تو اس کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ضرورت ہے کہ ملک پر چھوت چھات، بھید بھاؤ، بربریت، ظلم و ستم کا جو اندھیرا زعفرانی بالا دستی کی وجہ سے بڑھتا جارہا ہے اسے جمہوری اور قانونی طریقہ سے ختم کرنے کیلئے چھوٹے یا بڑے پیمانے پر جو جد وجہد سیاسی یا غیر سیاسی میدانوں میں جاری ہے اس کا ساتھ دامے، درمے ، سخنے دینا چاہئے تاکہ گاندھی جی کی حقیقی آزادی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔ ’’جہاں ہر شخص سر اٹھاکر چل سکے اور ہر شخص کا دل و دماغ آزاد ہو‘‘(ٹیگور)۔ جب ہی آزادی کی وہ صبح نمودار ہوگی جس کی تمنا اور آرزو جنگ آزادی کے مجاہدین نے کی تھی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

We need your help to spread this, Please Share

Related posts

Leave a Comment