مدارسِ اسلامیہ کے خلاف اطہر فاروقی کی بدتمیزی اور صدف فاطمہ کے پروپیگنڈے کی حقیقت !

The truth behind Athar Farooqi's rudeness against Islamic schools and Sadaf Fatima's propaganda! translate in urdu

مدارسِ اسلامیہ کے خلاف اطہر فاروقی کی بدتمیزی اور صدف فاطمہ کے پروپیگنڈے کی حقیقت !

    سوشل میڈیا پر اطہر فاروقی نام کے کسی شخص کے نام سے مدارس اسلامیہ کے خلاف رکیک تبصرے وائرل ہورہے ہیں، مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا کہ ایسا بدتمیز آدمی انجمن ترقی اردو جیسے ادارے کا جنرل سیکرٹری ہے، انجمن کی تاریخ تو بڑی عظیم الشان ہے، بلکہ انجمن ترقی اردو کا عہدیدار ایسا بدتمیز شخص ہے یہ بات اصل حادثہ ہے، انہوں نے یہ تبصرے کسی صدف فاطمہ کے مضمون کے حوالے سے جاری مذاکرے میں کیے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ روزنامہ انقلاب(دہلی) نے مدارس کے خلاف اس درجہ پروپیگنڈہ مضمون کو اپنی اشاعت کے قابل سمجھا !
پہلے ایک عبارت میں صدف فاطمہ کے مضمون کا لب لباب اور حقیقت سمجھ لیجیے ۔
  صدف فاطمہ نے ایک مضمون لکھا ہے بعنوان ” دینی مدارس کے فارغین اور یونیورسٹی کے نظام میں اردو درس و تدریس ” اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدارس سے پڑھ کر آنے والے طلبا و طالبات یونیورسٹیوں کے اردو اور عربی شعبوں میں بھر گئے ہیں اور وہ اردو ادب کی ویسی خدمت نہیں کرتے جیسی خدمت کرنا چاہیے ۔ انہوں نے تحقیر آمیز انداز میں دعویٰ کیا ہے کہ مدارسِ اسلامیہ کے فضلا چونکہ اردو کےعلاوہ کچھ جانتے نہیں اسلیے نوکری اور پیسہ کمانے کے لیے بیچارے یونیورسٹیوں کے اردو شعبوں میں پناہ حاصل کرتے ہیں ورنہ انہیں مدرسے میں نوکری کرنی پڑتی ہے یا مسجد میں امام یا مؤذن بننا پڑتا ہے، اس لیے مدارسِ دینیہ کے فارغین کی آخری پناہ گاہ یونیورسٹیوں کے اردو شعبے ہیں اور کسی بھی شعبے میں وہ داخل ہی نہیں ہوسکتے۔
  یہ دعویٰ صریح جھوٹ پر مبنی ہے اور ایسا سیاہ پروپیگنڈہ ہےکہ اسے بھاجپائی پروپیگنڈہ سمجھنا چاہیے کیونکہ مدارسِ دینیہ کے فضلا یونیورسٹیوں میں صرف اردو شعبے میں نہیں بلکہ مختلف ماڈرن ایجوکیشن کے تخصصات میں اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ موجود ہیں ۔ 
  صدف اور اطہر فاروقی جب چاہیں میرے ساتھ چلیں میں انہیں یونیورسٹیوں کے پولیٹیکل سائنس، LLB, Mass Communication, ,Digital Journalism,
 شعبہء تاریخ، BUMS, Educational Sciences، وکالت, English literature ، حتی کہ شعبہء اقتصادیات و اکنامکس میں بھی فضلاء مدارس کی بہترین موجودگی دکھا دوں گا، یونیورسٹیوں کے ان شعبوں میں پڑھنے والے کئی فضلاء مدارس اسٹوڈنٹس میرے دوست ہیں، اور کئی پڑھ کر نکل بھی گئے ہیں انہیں بھی تلاش کر لیا جائے گا، میں آپکی ان سے ملاقات کرواؤں گا آپ اپنی معلومات درست کرنے کے لیے کب ملنا چاہیں گے بتائیے، اگر آپ چاہیں تو آپکی آمد و رفت کا انتظام بھی میں کر دوں گا اور بےفکر رہیں مخالف نظریہ بلکہ پروپیگنڈہ رکھنے کے باوجود ہم مشرقی تہذیب کی ہماری شان سمجھی جانے والی اسلامی مہمان نوازی میں بھی کوئی کمی نہیں کریں گے بلکہ آپ کو تہذیب و سلیقہ کی ایک لطیف چھاؤں سے گزاریں گے، اور ان professional courses میں فضلاء مدارس کی یہ موجودگی اسی برج کورس کا کمال ہے جسے وائس چانسلر جنرل ضمیر شاہ نے پروفیسر راشد شاز کی ماتحتی میں شروع کرایا تھا جسے صدف صاحبہ ناکام و بیکار قرار دے رہی ہیں یہاں تک کہ مدارس کے طلبا کو یونیورسٹیوں میں داخلہ دینے والے اس برج کورس کو سیاسی مفادات کا ایک قدم قرار دے دیا، اس سے بڑا مذاق اور ظلم کیا ہوگا؟
  اب اگر صدف اور اطہر فاروقی کے دل میں اس موضوع پر ذرا بھی ایماندارانہ گفتگو کا جذبہ رہا ہوگا تو وہ اپنے پروپیگنڈے کے مرکزی وسوسے کا یہ عملی جواب پاکر یا تو اپنی غلطی تسلیم کرلیں گی رجوع کرلیں گے یا پھر یہی سمجھا جائے گا کہ مدارسِ اسلامیہ کے فضلا خلاف یہ پروپیگنڈہ بھی کہیں نہ کہیں آجکل کے سرکاری ماحول سے ” متاثر ” ہوگیا ہے ۔
  مجھے جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ میں کبھی بھی شدید ترین اختلافات کے دوران بھی کسی پر سیاسی یا سرکاری نسبت کا الزام نہیں لگاتا نہ ہی کسی کو ایجنٹ قرار دیتا ہوں بلکہ اس بابت میں نے مسلکی منافرت اور مسلکی شدت پسندی کے خلاف خوب لکھا ہے کہ مسلکی تفریق اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر کسی کو ایجنٹ قرار دینا یا سرکاری وابستگی کا طعنہ دینا ذہن و شعور کی دانشورانہ آزادی کا قتل ہے، یہ زندہ سماج کے لیے زہر ہے،
  لیکن صدف فاطمہ اور اطہر فاروقی نے جس وقت اور جس انداز میں مدارسِ دینیہ کے فضلا کی یونیورسٹیوں میں نمائندگی کےخلاف ایسا پروپیگنڈہ اٹھایا ہے وہ معمولی نظری اختلافات کے ضمن میں نہیں آتے، پروپیگنڈہ بھی جھوٹی بنیادوں پر کیا گیا، کیا یہ پروپیگنڈہ بھاجپا کے برہمنی ہندوتوا کے اسی مشن کو تقویت پہنچانے والا نہیں ہے, جس کے تحت وہ ملک بھر میں مدارس اور مسلمانوں سے متعلقہ یونیورسٹیوں کو کمزور کررہے ہیں؟ 
اطہر فاروقی تو کھلے عام مدارس کے طلبا کی یونیورسٹی میں نمائندگی کےخلاف کئی ہندو حضرات سے سوشل میڈیا پر مدد مانگتے ہوئے پائے گئے ہیں ،
  اطہر فاروقی فیسبوک پر پریم شُکلا نامی ہندو سے فریاد کرتے ہیں کہ: ” صاحب! اردو کو اپنی لڑائی مُلّاؤں سے بھی لڑنی ہے، جو اتنا بڑا خطرہ کبھی نہیں تھے جتنے آج ہیں، یونیورسٹیوں کے اردو شعبوں کو مدرسہ بنانے سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا ، اس کے خلاف ہندی والوں کو بھی آنا ہوگا ” 
 ایک اور جگہ اطہر فاروقی نے صاف طور پر مسلم دشمن سنگھیوں جیسی زبان استعمال کرکے کہا ہےکہ : بےفکر رہیے جلد ہی دینی مدارس کی ڈگریوں پر یونیورسٹی میں داخلے کے لئے پابندی عائد کر دی جائے گی اور یونیورسٹیوں کے اردو شعبوں کو جس طرح آپ مدارس کی طرح اسلامک atavism کا اڈہ بنانا چاہتے ہیں اس پر روک لگے گی “
یہ زبان یہ دھمکی یہ بدتمیزی کیا کوئی بھی مخلص مسلمان کرسکتا ہے ؟
  یہ اطہر فاروقی نے کھلم کھلا سوشل میڈیا پر لکھا ہے وہ ہندوؤں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ یونیورسٹیوں میں مدارسِ دینیہ کے فضلا کی اردو شعبے میں نمائندگی کےخلاف مہم شروع کریں، کیا موجودہ دور میں کوئی بھی مخلص یا کم از کم سمجھدار مسلمان یہ حرکت کرسکتا ہے ؟ ہندی والوں کو یونیورسٹی کے اردو شعبے کو مدرسہ بناکر پیش کرنا کیا یونیورسٹیوں میں مدراس کے طلبا کی نمائندگی کے خلاف ہندو۔مسلم منافرت شروع کرنے جیسی نفرتی کوشش نہیں ہے؟
   اطہر فاروقی کی زبان سے جو کچھ نکلا ہے وہ ان کے ذہن کی بدتمیزی اور دل میں چھپی نفرت کے مظاہر ہیں اور کچھ نہیں، انہوں نے جس انداز میں ہندوؤں کو اس معاملے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور یونیورسٹیوں میں موجود اہل مدارس کےخلاف کریک ڈاؤن کے لیے ” ملّاؤں ” کی جو تعبیر استعمال کرکے ہندوؤں کو اُکسایا ہے وہ شرمناک حرکت ہے ۔
  جس وقت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر ہندوتوادی سرکار کی بدنظر ہے، جس وقت دیگر یونیورسٹیوں میں مسلم طلبا اور فضلاء مدارس کی نمائندگی کےخلاف مسلمانوں سے نفرت کرنے والے سیاست کررہے ہیں اس وقت یونیورسٹیوں میں مدرسہ بنانے کا شوشہ چھوڑنا، اس وقت طلباء مدارس کو یونیورسٹیوں کے لیے خطرہ بتانا کس کی خدمت ہے؟
  کمال کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ صدف فاطمہ خود ایک عدد مدرسہ جامعہ مومنات کی پڑھی ہوئی ہیں ۔
  رہی بات فضلاء مدارس کی اردو ادب میں خدمات کی تو اس کا بھی عملی جواب موجود ہے ان دونوں محترم اور محترمہ کو چاہیے کہ وہ اس بابت بھی اپنی معلومات کی Fact-Check کرلیں، اس کالم میں اتنا ہی اس بابت مزید گفتگو جاری رہےگی۔ کیونکہ ابھی سفر میں ہوں اور ٹرین میں ذرائع بڑے مخدوش ہیں ۔
  اطہر فاروقی کو اپنی بدتمیزی اور دھمکیوں کے لیے معافی مانگ کر اس معاملے کو ختم کرنا چاہیے اور صدف فاطمہ کو اپنا غیر معقول پروپیگنڈہ مضمون واپس لینا چاہیے کیونکہ یہ مضمون مسخ حقائق اور سیاسی پروپیگنڈے کا نمائندہ ہے۔
✍️: سمیع اللہ خان
We need your help to spread this, Please Share

Related posts

Leave a Comment