رفعت سروش ایک عظیم شاعر اور بلند پایہ نثر نگار تھے: پروفیسر خالد محمود
رفعت سروش کی صد سالہ تقریب منعقد،ادبی خدمات کوخراج تحسین
نئی دہلی۔اردو ادب کے ممتاز شاعر، بلند پایہ نثر نگار اور ہمہ جہت ادبی شخصیت رفعت سروش کی صد سالہ پیدائش کی مناسبت سے ایک باوقار اور یادگار ادبی تقریب انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر،نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں اہلِ علم و ادب، اساتذہ جامعات، محققین، شعرا اور ادب دوست سامعین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کی نظامت معروف ادیب ڈاکٹر شفیع ایوب نے نہایت سلیقے، روانی اور ادبی ربط کے ساتھ انجام دی۔ پروگرام کے آغاز میں ڈاکٹر شبانہ نذیر نے رفعت سروش کی زندگی، ادبی سفر اور تخلیقی جہات پر جامع اور مؤثر تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر رفعت سروش کی کتاب ”رجنی گندھا“ کے اجرا پر ڈاکٹر شبانہ نذیر کو دلی مبارکباد پیش کی گئی۔
تقریب میں ڈاکٹر رضیہ حامد صاحبہ کا تحریر کردہ تحقیقی مقالہ شاملِ پروگرام تھا، جسے ڈاکٹر عذرا نقوی صاحبہ نے بہترین انداز میں پڑھ کر سنایا۔ مقالے میں رفعت سروش کی شاعری اور نثر کے فکری، جمالیاتی اور تہذیبی پہلوؤں کو مدلل انداز میں اجاگر کیا گیا۔
نامور نقاد اور استاد پروفیسر خالد محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ رفعت سروش اردو ادب کا ایک مستند اور معتبر نام ہیں، جو اپنی ہمہ جہت تخلیقی شخصیت کی بدولت منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ بیک وقت ایک عظیم شاعر اور بلند پایہ نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی اور جمالیاتی شخصیت کے اظہار کے لیے غزل اور نظم دونوں اصناف میں کامیاب طبع آزمائی کی، ساتھ ہی ناول، افسانہ، تنقیدی اور تاثراتی مضامین کے میدان میں بھی اپنی گہری دلچسپی اور فکری بصیرت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے ڈراما نگاری کو بھی وقار اور رفعت عطا کی۔ اس اعتبار سے رفعت سروش ادبی دنیا میں ایک کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے، جن کی تخلیقی شخصیت جلوہ صد رنگ کی دلکش خوبیوں سے آراستہ تھی۔ انہوں نے رفعت سروش کے سفرناموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بھوپال سے ایک گہرا اور قلبی رشتہ تھا، جو ان کی تحریروں میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ انہوں نے صد سالہ تقریبات کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد بھی پیش کی۔
معروف شاعر پروفیسر رحمان مصور نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ رفعت سروش کی غزلیں ابتدا ہی سے قارئین اور سامعین کو متاثر کرتی آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اردو زبان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور وہ لوگ بھی اردو ادب سے جڑ رہے ہیں جو رسم الخط سے واقف نہیں اور دیوناگری میں اردو پڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق رفعت سروش کی شاعری آج کے قاری کے لیے بھی بامعنی ہے، کیونکہ وہ اپنی شاعری میں اپنی زمین، تہذیب اور زندگی سے گہرا رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ، سلیس اور پُراثر ہے اور انہوں نے لفظوں کو نئے معنوی تناظر میں ازسرِنو دریافت کیا ہے۔ ان کے یہاں زندگی مسلسل جدوجہد، محنت اور عمل کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔
تقریب کی صدارت ڈاکٹر سید فاروق نے کی، جب کہ مہمانِ خصوصی پروفیسر طاہر محمود نے مختصر مگر وقیع انداز میں رفعت سروش کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اردو ادب کی ایک معتبر اور توانا آواز تھے، جن کی شاعری اور نثر میں فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور زبان کی شائستگی نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔
تقریب کے ایک اہم حصے میں محفلِ غزل کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں شعرا نے رفعت سروش کی منتخب غزلوں کے اشعار پیش کیے۔ اشعار کی پیش کش نے محفل کو ایک خاص ادبی کیف و سرور سے بھر دیا اور سامعین نے پرجوش داد دے کر رفعت سروش کی شعری عظمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر نوید سروش اور جاوید سروش نے بھی اظہار خیا ل کیا۔
یہ صد سالہ تقریب رفعت سروش کی ادبی عظمت، فکری وسعت اور اردو زبان کی تہذیبی شان کا ایک بھرپور اور یادگار اظہار ثابت ہوئی، جو دیر تک حاضرین کے دل و دماغ میں تازہ رہے گی۔
