اردو صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے اردو کو ترقی دیں

Promote Urdu to keep Urdu journalism alive

اردو صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے اردو کو ترقی دیں
غالب اکیڈمی کے سیمینار میں شیخ منظور احمد کا اظہار خیال

نئی دہلی۔ معروف صحافی آنجہانی جی ڈی چندن کے 103 ویں یوم پیدائش کے موقع پرغالب اکیڈمی کے زیر اہتمام”اردو صحافت: امکانات اور چیلنجز“ کے عنوان سے یک روزہ سیمینارمنعقد کیا گیا۔سیمینار کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔انھوں نے صدارتی تقریر میں کہا کہ صحافی کی ملازمت غیر محفوظ ہے۔لیکن اسکول میں یا سرکاری ملازمت محفوظ ہوتی ہے۔چیلنج سب سے بڑا تعلیمی پالیسی ہے جدید مضامین پڑھنے کے لیے انگریزی ہے عام بول چال میں اردو ہے۔محبت کا نام اردو بولنا ہے۔سب سے بڑا چیلنج اردو قارئین کا اردو پڑھنا ہے اخبار کیوں نہیں خریدتے۔ اردو خبریں مختصر ہوتی ہیں جریدے بے باک ہوتے ہیں اردو صحافی حوصلہ مند صحافی کی اردو صحافت کو فروغ دیتا ہے۔اس موقع پرمہمان خصوصی جناب شیخ منظور احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب اردو سروس یو این آئی آیا تو کیرل میں ملیالم اور بنگال میں بنگالی اخبار پڑھنے والے زیادہ ہیں۔اردو دوسری بڑی زباں تھی لیکن اب نہیں۔ یو این آئی نے اردو میں رپورٹنگ کی ابتدا کی یہ لنک بنا۔ترقی کا فائدہ ہوا۔ اقتصادیات کی وجہ ہے اردو اخبارات بند ہوئے ریڈر شپ کم ہونے کی وجہ سے اشتہار نہیں ملتے۔ پلاننگ کرکے بیٹھیں اردو کو ترقی دیں۔آج اخبار بند ہورہا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹروسیم راشد نے اردو صحافت میں خواتین کا کردار کے عنوان سے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردوصحافت کا تابناک پہلو ہے خواتین کا سفر آسان نہیں رہا۔ عورتوں کی تعلیم کا خاص انتظام نہیں تھا۔محمدی بیگم اردو کی پہلی خاتون تھیں۔آزادی کے بعد کی اردو خواتین کے بہت سے مسائل تھے۔اخباروں و رسائل میں بعض خواتین نے کام کیا خاتون مشرق،بیسویں صدی شمع افروز زیدی،نور جہاں ثروت قومی آواز اور تسنیم فاطمہ بانو،عصمت میں کالم لکھے۔ ممبئی،حیدر آباد میں بڑی تعداد میں خواتین موجود ہیں فرحت رضوی دہلی، بھوپال سے رضیہ حامد۔اس موقع پر عبدالسلام عاصم نے اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت میں چندن صاحب کی کتاب 1922 میں جام جہاں نما شائع ہوئی۔ ان سے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا۔ اطلاع اور ایڈوائس سے منفی فائدہ اٹھانے والے بہت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اگر سکولرزم مکممل تعلیمی نصاب کا حصہ نہیں بنا تو بہت حالات خراب ہوں گے۔اس موقع پر سہیل انجم صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو اخباروں میں حب الوطنی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ قومی تقاریب پر مضامین شائع ہوتے ہیں۔ 1822سے اب تک اردو کا شاندار کارنامہ رہا ہے۔اس موقع پر معصوم مراد آبادی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کا ترقی پسند نقطہ نظر تھا صحافت کے تعلق سے اردو زبان کی ترقی جہاں نہیں ہورہی وہاں اردو صحافت کی ترقی متاثر ہے۔نیا قاری پیدا نہیں ہورہا ہے۔سیمینار کے آخر میں دہلی کے مختلف اخباروں کے اردو صحافیوں، نامہ نگاروں اور فوٹو گرافروں کو میمنٹوز تقسیم کئے گئے۔جن میں فرزان قریشی(انقلاب)،محمد یامین،اظہار الحسن،(راشٹریہ سہارا)،شمس الھدیٰ(میزائل ایکسپریس)،نوازش مہدی(ڈی ڈی نیوز)،شعیب رضا فاطمی(ہمارا سماج)،محمد ایاز(سیاسی تقدیر)،محمد طیب (صحافت)،انجم جعفری (قومی بھارت)،محمد علی (جرنو مرر)،معین احمد خان(فوٹو گرافر)کے نام قابل ذکر ہیں۔اس موقع پر متین امروہوی،اظہار الحق، فرمان چودھری،احترام صدیقی،سرفراز احمد فراز،حشمت بھاردواج ایڈوکیٹ، خورشید حیات،پون کمار تومر،سید اقبال،عارف حسین خان،پروفیسرنفیس بانو،ڈاکٹر تبسم شاداب،شری کانت کوہلی،عبدالباری مسعود اور بڑی تعداد میں سامعین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر یامین انصاری نے سیمینار کی نظامت کی اور ڈاکٹر عقیل احمد نے شکریہ ادا کیا۔

We need your help to spread this, Please Share

Related posts

Leave a Comment