یوم سر سید

یوم سر سید
محمد علم اللہ، نئی دہلی
راستے بھر اس مرد درویش کے حدود حرم کے سحر سے باہر نہیں نکل سکے۔ اللہ، اللہ، کیا شخص تھا وہ؟
دو ادوار، اُس ایک شخص میں آ کر ضم ہو جاتے ہیں؛ تہذیبوں کے تصادم کے اس دور میں سرسید کی معنویت کی ایک اہم جہت یہ بھی ہے کہ وہ تصادم یا مناظرے کے بجائے مکالمہ اور تہذیبی لین دین کے عَلم بردار تھے۔
میں نے سوچا کہ اس لمبی داڑھی اور اوورکوٹ میں ملبوس پیکر کی’شخصیت اور کارنامے ‘ کا جشن منانے والے ہم جیسے بونے لوگ اس کے کارناموں کا ادراک بھی کتنی نچلی سطح پر آ کر کرتے ہیں۔
 جس طرح ظاہر بیں نگاہیں اس ’جوان بوڑھے‘کے ظاہری ڈیل ڈول اور شخصی وجاہت پر جاکر اٹک جاتی ہیں، ویسے ہی ہم میں سے دانش وری کا زعم پالنے والے بھی اس کے ذہن رسا، اس کے طرز فکر اور اس کے تخیل کی پرواز کو چھو نہیں سکتے۔ اور ہاں، اس کی سب سے بڑی دولت، اس کے دل درد مند کو ہم تو کب کا فراموش کر چکے ہیں۔ جس کی حرارت نے نہ جانے کتنے دلوں کو گرما دیا۔ اور چراغ سے چراغ روشن ہوتے رہے۔
مجھے ان سب کا دھیان آیا، شمع کی مرکزیت تو مسلم ہے، پروانوں کے عشق کا بانک پن اور کج کلاہی بھی تو غضب کی تھی۔ کار ایک دھچکے سے رکی اور میں اپنے خیالوں کی دنیا سے لوٹ آیا۔ ہم دہلی پہنچ چکے تھے۔
#SirSyedAhmadKhan
We need your help to spread this, Please Share

Related posts

Leave a Comment